Wednesday, 31 July 2013

آزادی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھوری کہانی

لڑکی اپنی نومولود کیساتھ مہاجر کیمپ میں تھی، اور دلال روزانہ کی طرح 'مال' کی تلاش میں کیمپ کا چکر لگا رہے تھے ۔۔
یہ ادھوری کہانی ۔۔ مکالمہ ہے ۔۔ امرتسر سے آئی مسلمان لڑکی اور آزاد پاکستان کے لاہور کے ایک دلال کے بیچ ۔۔

ہاتھ مت لگا
میں کنواری ہوں

کہاں سے آئی ہے؟

امرتسر سے

ساتھ کون ہے؟

یہ

یہ تیری بچی ہے؟

ہاں

اس کا باپ نہیں آیا تیرے ساتھ

میں کنواری ہوں

تو یہ بچی؟

میری ہے

کنواری بھی ہے اور ایک بچی کی ماں بھی؟

آزادی سے ایک دن پہلے سب کو مار دیا تھا، مجھے اکرم اپنے ساتھ لے گیا تھا، چھپا کر
کہتا تھا تیری حفاظت کروں گا، ساتھ نہیں چھوڑوں گا، ہم جلد نکاح کرلیں گے ،پھر نئے وطن چلینگے

اور یہ بچی؟

یہ آزادی کی اُجرت ہے صاب، آزاد وطن کے لاہور اسٹیشن پہ اترتے ہی، مجھے بہن کہہ کر اپنے ساتھ لیجانے والے دو مسلمان بھائیوں کا تحفہ ۔۔

 مجھے پناہ دینے سے لیکر گناہ پہ مجبور کردینے والے دو 'بھائی' ۔۔ جو رشتہ میں میرے بھائی بھی بنے اور شیدائی بھی ۔۔
 ہاں صاب یہ ہی سمجھ کے آئے تھے کہ سب آسان ہوجائے گا ۔۔ واقعی سب آسان ہوگیا ۔۔۔

 بس ایک کٹھنائی ہے ۔۔
 کچھ ادھورا رہ گیا ہے ۔۔

 وہ دو تھے ناں صاب ،، تو سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بھائی کون رہا اور شیدائی کون ۔۔۔ پناہ اور گناہ کے کھیل میں کون دوسرے نمبر پہ آکر صرف 'ماما' بنا ۔۔ اور کون اول رہ کر اس کا 'باپ' بنا ۔۔ کہانی ادھوری ہے صاب ۔۔

تو پھر اس کہانی کو پورا کر ۔۔ کیا کھائے گی؟ کہاں سے کھائے گی؟ امرتسری جسم ہے ۔۔ چہرا بھی ٹھیک ہے ۔۔ چل شاہی مسجد کے پیچھے ۔۔۔ گناہ تو کرچکی ۔۔ اب لاج کاہے کی؟

میری بچی کا کیا ہوگا؟ اسے بھی اسی گناہ کی پناہ گاہ میں جھونک دوگے؟

میری جان ۔۔۔ آزادی کے بعد تو پہلی ادھوری کہانی نہیں ۔۔ تیرے جیسی بڑی ادھوری کہانیاں ادھر بازار میں پڑی ہیں ۔۔

تیری کہانی تو شیدائیوں نے ادھوری کر چھوڑی ۔۔ اور شیدائیوں کا یہ تحفہ بھی آنے والے وقتوں کی ایک اور ادھوری کہانی ہی ہے ۔۔
اب چل ۔۔ میرے ساتھ چلنے سے کچھ پیسے ہاتھ آئیں گے ۔۔ ایسے کھلے میں رہی تو اور بھائی نما شیدائی مفت میں تجھے ادھوری کہانیوں کا تحفہ دیتے رہیں گے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ دلال کے پیچھے چل پڑی ۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھوری کہانی


Friday, 31 May 2013

جانے وہ کون سا دیس ۔۔ جہاں تم چلے گئے

کراچی یوتھ اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا اور تیز بارش تھی، میں گھر سے لڑ بھِڑ کر نکلا تھا، کیونکہ انھوں نے فون پہ کہا دیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے اجلاس ہو کر رہے گا۔ میں رکشہ پہ اے جی سندھ بلڈنگ پہنچا، اور اس سوچ میں بھیگتا ہوا اندر بنے ریڈیو پاکستان کے آڈیٹوریم کی طرف بڑھنے لگا کہ شاید میں ہی پہلے پہنچا ہوں، لیکن وہ وہاں پہلے سے موجود تھے۔ میں بات کر رہا ہوں ۔۔۔ محترم اظفر رضوی بھائی کی ۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ بچوں کا استقبال کرنے کے لیئے بارش میں نہاتا  وہ شخص،  گزشتہ رات خون میں نہلادیا جائے گا ۔۔

 

 

اس قتل کو کیا نام دوں؟ ایک استاد کا قتل؟ ایک دانش ور کا قتل؟ ایک سماجی کارکن کا قتل؟ اور کوئی اسے کوئی بھی نام دے ۔۔ میرے لیئے، اور کراچی کے نوجوانوں کے لیئے یہ ایک ایسے شخص کا قتل ہے، جس نے ان کی آواز کو پرواز بخشی۔ وہ کل کراچی تقریری مقابلہ ہو یا کراچی یوتھ اسمبلی کا قیام، اظفر رضوی کا یہ ہی کہنا تھا کہ اس شہر میں جتنا ٹیلنٹ ہے، اس کو بغیر کسی تفریق کے آگے لانا ہے۔ اور یہ ٹیلنٹ محض اسکول کالجوں میں نہیں، مدارس میں بھی ہے، اس لیئے کراچی میں پہلی بار ایسے تقریری مقابلے ہوئے جہاں اسکول کالج جامعات اور مدارس کے بچے اکھٹے ہوئے اور اپنی اپنی سوچ کے ساتھ آگے بڑھے، آگے بڑھے اس امید کے ساتھ اختلافِ رائے ہی اصل استاد ہے، اور برداشت ہی اصل تجربہ۔


اظفر بھائی کی کراچی کے نوجوانوں کے لیئے کاوش، جس سے میں بھی مستفید ہوا
ڈھاکہ گروپ آف ایجوکیشن کے تحت ہونے والا
پہلا کُل کراچی تقریری مقابلہ 


 

 

تو پھر کسی میں بھی فرق نہ کرنے والے اظفر رضوی کی زندگی اور موت کے فرق کو مٹانے والے کون  ہیں؟ کس نے اختلاف کی آڑ میں اظفر رضوی کو گولیوں سے بھون دیا؟ کس نے کراچی کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے کے طلبا کو یکجا کرنے والے اور ان کی آواز کو پرواز بخشنے پر زندگی تنگ کردی؟ سب سے آسان جواب ۔۔ ۔نامعلوم افراد ۔۔۔۔

ان نامعلوم ملعونوں نے صرف ایک شخص کی آواز نہیں، ان ہزاروں طلبا و طالبات کی آواز چھین لی ۔۔۔ جو قصبہ کے اسکولوں سے لیکر بلدیہ کے مدارس تک میں زیر تعلیم تھے۔ اور ہم تو اس بات پہ نوحہ کناں ہیں کہ ہم سے ایک اثاثہ چھین لیا گیا، لیکن شاید ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ جس نواسے کے سامنے اس کے نانا کو ماردیا جائے، وہ زندگی بھر کِس کرَب میں گُزارے گا؟ میرے ایک دوست نے مجھے سماجی ویب سایئٹ پہ مسج کر کے یہ بتایا کہ اظفر بھائی کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے

میں ابھی آتا ہوں، میرے آنے کے بعد کیک کٹے گا میرے پیارے نواسے کا ۔۔۔۔

پتہ نہیں کب تک ہم، جنت گُم گشتہ کی ان بازیاب کو راحی مُلک عدم بنتا دیکھتے رہیں گے۔ ابھی ایک استاد پروین رحمان کے قبر کی مٹی تازہ ہی تھی کہ اظفر رضوی کو بھی اس دیس بھیج دیا گیا ۔۔۔ جہاں جانے والوں کے لیئے ہم بدنصیب اتنا ہی کہہ سکتے ہیں

 چٹھی نہ کوئی سندیس ۔۔۔ جانے وہ کون سا دیس ۔۔ جہاں تم چلے گئے

 

 

 

 

Monday, 22 April 2013

میں پھولوں کو ۔۔۔ پھول بانٹ آیا

میں پھولوں کو ۔۔۔ پھول بانٹ آیا

 اور اس سے زیادہ میں کر بھی کیا سکتا تھا ۔۔ اور اس سے زیادہ میری استطاعت بھی نہیں تھی ۔۔۔ ای ڈا ریو یعنی ادارہ برائے معذور افراد کے یہ نابینا اور قوت سماعت سے محروم بچے ۔۔۔ انھیں میں اور کیا دے سکتا تھا؟ تو میں نے سوچا کہ، جو گلدستہ مجھے انتظامیہ نے پیش کیا ۔۔۔ اس گلدستہ میں سجے پھول، ان پھولوں میں بانٹ دوں ۔۔۔ وہاں کے استاد نے مجھے روک کر کہا کہ میں نے اپنے یہاں کئی مہمان مدعو کیئے، مگر آج تک کسی نے ایسا نہیں کیا ۔۔ آپ نے ایسا کیوں کیا ۔۔ میں نے انھیں انگریزی میں یہ جواب دیا

These flowers may wither away with the passage of time, but the fragrance will always remain in the mind of these students in the shape of memory, for a long long time

یعنی یہ پھول تو گزرتے وقت کیساتھ جھَڑ جائیں گے، مگر ان کی خوشبو، ان طلبا کے ذہنوں میں یادیں بن کر، ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہیں گے ۔۔




بات یہ ہے کہ، معذور یہ افراد نہیں کہ بول یا دیکھ یا سن نہیں سکتے ۔۔ بات تو یہ ہے کہ معذور ہم ہیں ۔۔ جو انھیں سمجھ نہیں سکتے ۔۔۔ سمجھے ہوتے تو ہمارے معاشرے میں انھیں تضحیک کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا  ۔۔۔ مجھے ایک ادارے نے کیرئر کاؤنسلنگ کے موضوع پر یہاں ای ڈا ریو مدعو کیا تھا ۔۔۔ یقین مانیں کہ ۔۔۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا تھا کہ میں بچوں سے جا کر کیا گفتگو کروں گا ۔۔ خیر میں یہاں پہنچا ، میری ملاقات بچوں کی استانی سے کرائی گئی جنھوں نے مجھے بتایا کہ میں جو کچھ بولوں گا، وہ ہاتھ کے اشارے سے بچوں کو سمجھائیں گی ۔۔۔۔ ہال پہنچنے پر میرا استقبال خاموش تالیوں سے کیا گیا ۔۔۔


 یہ ان بچوں کی تالیاں تھیں جن کے لیئے کبھی کسی سیاسی جلسہ میں تالیاں نہیں بجیں ۔۔۔۔ کبھی کسی کارپوریٹ ادارے نے ان کی گونگی تالیوں کو آواز دینے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ کوئی سونامی ان کی تالیوں کے لیئے نہیں آیا ۔۔ کوئی انقلاب ان کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ محسوس نہیں کرسکا ۔۔۔ نہ ہی کسی نے ان کےلیئے قانونی اصلاحات کی بات کی ۔۔ نہ ہی کسی کا شیر ان کے لیئے دھاڑا، نہ ہی کسی کا تیر ان کے لیئے چلا ۔۔۔ معذرت کے ساتھ ہمارے یہاں تو سائیکل بھی ان افراد کے لیئے کم کم ہی بنا کرتی ہیں ۔۔۔ اور کیریئر کاٴؤنسلنگ؟ میں طبقاتی فرق نہیں کررہا مگر ۔۔۔ جب سو کالڈ  ؛ٹھیک ٹھاک؛ افراد کےلیئے کیرئیر کاؤنسلنگ کا کوئی ادارہ نہیں یا پھر جن تعلیمی اداروں سے انھیں فارغ التحصیل ہونا ہے ان میں کوئی ایسا شعبہ نہیں ۔۔۔ تو پھران بچوں کے لیئے کیا انتظام ہوگا؟

تو خیر میں نے اللہ کا نام لیکر بولنا  شروع کیا ۔۔ ساتھ میں استانی بھی اشاروں کی بولی بولتی رہیں ۔۔۔۔ میں بہت جلد سمجھ گیا کہ، یہ اہم نہیں کہ میں نے کیا بولنا ہے، اہم یہ ہے کہ بچوں کو سمجھ آرہا ہے یا نہیں ۔۔۔



 میں نے پہلے پوچھا کہ آپ میں سے ڈاکٹر کون بننا چاہتا ہے ۔۔ سب نے ہاتھ اٹھا دیا ۔۔۔۔ پھر میں نے باری باری سب سے پوچھا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں ۔۔ کسی بچی نے ہاتھ گھوما گھوما کے کہا وہ سلائی کڑھائی یعنی فیشن ڈیزائیننگ کرنا چاہتی ہیں ۔۔ کچھ نے خیالی کرچھی گھوما کے مجھے بتایا کہ اسے کھانا پکانے کا شوق ہے یعنی وہ کُک یا شیف بننا چاہتی ہے ۔۔



 ایک لڑکے نے انگلیاں نچا کے جتایا کہ وہ ٹائپینگ میں ماہر ہے اور کمپیوٹر سے منسلک کوئی جاب کرنا چاہتا ہے ۔۔ استانی نے مزید بتایا کہ یہ نادرا یا پاسپورٹ آفس میں ڈیٹا انٹری کا کام کرنا چاہتا ہے ۔۔۔



پھر میں نے کہا کہ بھائی سارے افسر بنو گے ۔۔ یا کسی کو کرکٹر بھی بننا ہے ۔۔۔ او ہو ۔۔ پھر تو جوش و جذبہ دیدنی تھا ۔۔۔ کسی نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ بلے باز ہے ۔۔ کسی نے بتایا کہ وہ تیز گیند بازی کرتا ہے ۔۔ سب سے زیادہ مزہ تب آیا جب ایک بچے نے دانت نکال کے وکٹ کیپر کی طرح اشارے کیئے، تو استانی نے بتایا ، یہ کہہ رہا ہے کہ میں کامران اکمل سے زیادہ اچھی وکٹ کیپنگ کر سکتا ہوں ۔۔ یہ سن کر میں مسکرا دیا اور کچھ سوچ کہ پھر ڈائس کی جانب بڑھا ۔۔۔

میں نے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی، کہ وہ کرو جو تم کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔ جو صلاحیت تم رکھتے ہو ۔۔ وہ کام کرو ۔۔۔۔ اگر ایسا کرو گے، تو دل سے کرو گے ۔۔۔ ورنہ اماں ابا کے بِل سے کروگے ۔۔۔ شاید بچوں کو یہ بات سمجھ آگئی ۔۔ اور انھوں نے ایک بار پھر وہ ہی خاموش تالیاں بجائیں ۔۔۔ اور اس بار میں نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔


اور اب میری گفتگو اپنے آخری مراحل میں داخل ہو ہی رہی تھی کہ ہال میں کچھ گورے داخل آئے ۔۔ استانی نے بتایا کہ یہ افراد، لندن اسکول آف ڈیف سے آئے تھے ۔۔۔ میں نے موقع غنیمت جانا ۔۔۔ اور ان سے وہیں ڈائس سے کچھ یوں مخاطب ہوگیا ۔۔

You know, I am myself a guest over here, but still I welcome you all here in Karachi, Pakistan. Since I am a part of electronic media and round the clock we keep monitoring the foreign channels like BBC, FOX and CNN, and the way We are portrayed across the globe makes us feel that We are a BOOM BOOM BANG BANG nation, but to me, this is my nation. This is my nation and these are the representatives of my nation. These blind and deaf students. You may have come across one Ali Moin Nawazish, the record holder, today I give you these Ali Moins … no they are not record holders, but they are here to study in spite of their impairment. You may have come across one MALALA, today I give you these MALALAs, these girls may not have received bullets in their skull , still they show resilience against the darkness in their eyes, and they want to lighten up their minds by earning education. This is Pakistan, resilient, resolute and determined. I leave the stage with these words.



میں ان الفاظ کے ساتھ ہی اسٹیج سے نیچے اتر آیا ۔۔۔ اور اترتے ہی خدا کا شکر ادا کیا ۔۔ کہ آج میں نے دو کام کر ڈالے ۔۔۔ شاید بڑے پیمانے پہ نہیں، بہت بہت چھوٹے پیمانے پہ ہی صحیح ۔۔ پہلا تو یہ کہ، میں نے ان قوت گویائی اور قوت سماعت سے محروم بچوں کے ذہنوں میں یہ بات اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ وہ بنو جو تم چاہو، اور دوسرا یہ کہ ان انگریزوں کے ذہنوں میں یہ بات اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ واپس اپنے ملک جس کر وہ ہی بتائیں جو ہم ہیں ۔۔۔ یعنی

Resilient, Resolute and Determined!

:)


آخر میں مجھے ایک شیلڈ اور ایک گلدستہ پیش کیا گیا ۔۔۔ میں نے سوچا کہ گلدستے مجھے ہر ایونٹ میں دیئے جاتے ہیں ۔۔ جنھیں میں گھر لے جاتا ہوں ۔۔۔ پھر کبھی میرے ڈیڑھ سال کے جڑواں بھانجے ان گلدستوں کی درگت بناتے ہیں، تو کبھی والدہ اس کو کہیں رکھ دیتی ہیں ۔۔۔ اور مرجھانے پر وہ کچرے کے ڈِبے کی زینت بن جاتے ہیں ۔۔۔



اچانک میرے ذہن میں کچھ آیا، میں نے گلدستہ لیا، منتظمین سے اجازت لی ۔۔۔ اور اس گلدستے میں سے ایک ایک پھول نکال نکال کر، ان سارے پھولوں میں تقسیم کردیئے، جو میری آپ کی طرح دیکھ تو نہیں سکتے، جو میری آپ کی طرح، سن تو نہیں سکتے، بول تو نہیں سکتے ،، ہاں لیکن خوشبو تو محسوس کرسکتے ہیں ۔۔۔



 تو میں نے باری باری، سب بچوں میں پھول بانٹ دیئے ۔۔۔ اس وعدے کیساتھ کہ میں واپس آؤں گا ۔۔۔ ایک اور سیمینار کرنے کے لیئے، اس بار میں چند حکومتی عہدیداروں کو ساتھ لاؤں گا ۔۔ کیوں کہ میں نے تو نہیں بلکہ ان ہی حکومتی عہدیداروں نے ان بچوں کے لیئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں ۔۔۔ میں واپس آؤں گا اپنے تربیتی ادارے قومی ادارہ برائے فن خطابت کو لیکر ۔۔۔ کہ اسی ادارے نے میری تربیت کی ہے ۔۔ اور مجھے یقین ہے یہ ادارہ، ان کی تربیت بھی کرے گا ۔۔۔کرے گا ناں؟ ان پھولوں کو پھول، بانٹے گا ناں؟


   

Tuesday, 16 April 2013

جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے ۔۔ باغ تو سارا جانے ہے!


ٹریننگ سیشن کا پہلا ہفتہ
 

میڈم ۔۔۔ آج میں نے کیسی خبریں پڑھیں؟

 

منیبا ۔۔ ہاں بس

 

ٹریننگ سیشن کا دوسرا ہفتہ

 

فیصل ۔۔ میڈم آج میں نے کیسی پرفارمنس دی

منیبا ۔۔ ہاں صحیح

 

ٹریننگ سیشن کا تیسرا ہفتہ

 

فیصل ۔۔ میڈم وہ آج ؟

منیبا ؛ ہم ہم ہمہم او کے

 

اب میں روز سوچتا تھا کہ یار میں ایسا کیا کروں کہ ایک بار ہی صحیح میری تعریف تو ہوجائے ۔۔ اچھا تعریف نہ ہو تو کم از کم پتہ تو چل جائے کہ میں آخر اپنی صلاحیت کے کیسے کیسے نادر جواہرات بکھیر رہا ہوں ۔۔ لیکن جب جب اپنی ٹرینر منیبا گل سے پوچھنے جاؤں ۔۔۔ ہوں ہاں اچھا ٹھیک ہے کے علاوہ اور کچھ سننے کو ملے ہی نہیں ۔۔۔ شاید وہ میرے ہڈن ٹیلنٹ کو سیریئسلی نہیں لے رہی تھیں ۔۔ یا پھر انھوں نے پوت کے پاؤں پالنے میں دیکھنے کے بعد، دانستہ طور پہ آنے والے وقتوں کے لیئے مجھے تیار کرنا شروع کردیا تھا ۔۔۔ کہ آج بھی جب میں اپنے باسس سے سوال کرتا ہوں ۔۔۔ سر رات بریکنگ کیسی رہی، سر میری پرفارمنس کیسی جارہی ہے ۔۔۔ وہ ہی  ہمممم ہوں ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔۔

 

اب یہ مختاراں مائی والا رونا تو لگا ہی رہے گا ۔۔۔۔ اس وقت تک کہ جب تک میں ہمت نہیں چھوڑ دیتا ۔۔ یا پھر میں ؛غالب فلم دیکھی ہے آپ نے؛ والا اینکر بن کر ان سب پہ غالب نہیں آجاتا ۔۔۔۔ ہاں لیکن ملالہ ارفعہ اور دیگر باہمت خواتین کی خبریں پڑھ پڑھ کہ، ایک بات کا اندازہ ہوا ۔۔۔ ہم ایسی خبروں کی تلاش میں اپنی اونٹ سی گردن نکال کر بہت دور دور جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن کبھی کبھار، اپنے اریب قریب ایسے لوگوں پہ ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا ۔۔۔۔ جو ارفعہ ملالہ یا شرمین جیسی تو نہیں، مگر ان سے کم بھی نہیں ۔۔۔۔ شاید ہم وقت گزرنے کے ساتھ انھیں بھول جاتے ہیں ۔۔ یا پھر انھیں ؛فار گرانٹڈ لیتے ہیں؛

 

 

 

تو میں نے بھی اِدھر اُدھر جھانکا ۔۔۔ اپنے اِرد گرِد ٹٹولہ اور گرد و نواح میں دور دور تلاش کیا ۔۔ اس سرچ آپریشن کے دوران میری ٹارگٹڈ کاروائی کام ہی آگئی ۔۔۔۔۔

 

 

 

یار میڈم منیبا ۔۔۔۔ ویسے تو آپ میری سینیئر ہیں اور آپ کے منہ سے اپنے لیئے یہ الفاظ سننے کے لیئے ترس گیا، لیکن آپ کی شاندار پرفارمنس کے بعد ۔۔ کہنا بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
 

 

 

ویسے اگر میڈم کی زندگی پہ پیکج بنانے کا کبھی مجھے موقع ملتا تو وہ کچھ یوں ہوگا ۔۔۔

 

منیبا گل ۔۔ شروع سے ہی محنتی واقع ہویئں ۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم ۔۔۔ درمیانی تعلیم ۔۔۔ اعلٰی تعلیم کا تو پتہ نہیں ۔۔۔ بس شروع سے ہی ایک بڑا آدمی کی دھن میں میڈم نے میڈیا جوائن کیا ۔۔۔ اور اپنے اِرد گرِد بڑے بڑے آدمیوں کو ٹَف ٹائم دیا ۔۔۔ میڈیم نے جاں فِشانی سے کئی اینکرز بنائے ۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں وہ میڈم کو بنا گئے ۔۔۔۔۔ لیکن میڈم نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔ تب بھی نہیں جب ایک دن ان کا لایا ہوا ٹِفن میں پیچھے سے لے اُڑا تھا ۔۔۔۔ خیر ۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہا ۔۔ اور میڈم کا سفر جاری رہا ۔۔۔ اور آخر وہ دن آہی گیا ۔۔ جب پپو پاس ہوگیا ۔۔۔۔ وہ بھی ریکارڈ توڑ پاس ۔۔۔۔

 

 

 

 

آج کے اس معاشرے میں ۔۔ ایک خاتون کے لیئے اتنا سب کچھ کرنا ۔۔۔ فیصل لعنت ہے تم پہ لعنت ہے ایک ڈگری مکمل نہیں ہوپارہی جامعہ سے ۔۔۔ خیر مذاق سے ہٹ کر ، میں جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور لڑکیوں کو تعلیم صرف بہتر رشتوں کے لیئے حاصل کرتے دیکھتا ہوں ،،، میرا مطلب تمام لڑکیوں سے  نہیں، زیادہ تر لڑکیوں سے ہے ۔۔۔۔ اور پھر میں ان کا تقابل میڈم سے کرتا ہوں ۔۔ تو مجھے یقین کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔ مطلب کیا ضروری تھا منیبا کے لیئے کام کرتے ہوئے پڑھنا؟ یا پھر ایک ماسٹرز کرنے بعد دوبارہ ماسٹرز کرنا ،، اور مختلف شعبوں میں ۔۔۔ ایک دوسرے سے الگ ۔۔۔

 

آپ واقعی ایک مثال ہیں، رول ماڈل، آئیکان ۔۔۔ ان لڑکیوں کے لیئے بھی جو پڑھائی ایک مخصوص نظریہ کے تحت کرتی ہیں ۔۔۔ یا پھر میرے

جیسے پڑھائی چوروں کے لیئے بھی ۔۔ جنھوں نے پڑھائی چوری میں سونے کا تمغہ حاصل کیا ہوا ہے ۔۔ کچھ ایسا

 

 

 

یہاں میں اس چیز کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ، جتنا کامیاب اور خوبصورت سفر میڈم کا لگتا ہے، میں تھوڑا بہت گواہ ہوں کہ یہ سفر اتنا ہی کٹھن، دشوار، اور مشکل رہا ہے ۔۔ لیکن کامیابی کوئی ملائی تھوڑی ہے جو چینی ڈال کے پلیٹ میں پیش کی جائے ۔۔۔ اس میں اتنی ہی کڑواہٹ ہے جتنی کریلے کے جوس میں ہوسکتی ہے ۔۔۔ اور آپ کا واسطہ بہت سے کڑوے لوگوں سے پڑتا ہے ۔۔

میرا مطلب کڑوے کسیلے لوگ

 



تصویر کو دیکھ کہ، کچھ یادیں تازہ ہوئیں ؟

؛)

 

 

میڈم کیساتھ میں نے شاید ایک سال یا اس سے کم کام کیا ہوگا ۔۔۔ لیکن جتنا بھی کیا ۔۔۔ وہ یاد نہیں ۔۔۔۔ یاد ہے تو یہ کہ ایک نامکمل ٹریننگ پروگرام سے لیکر آخری دن تک ۔۔۔ سب اچھا رہا ۔۔۔۔ اچھا اچھا رہا ۔۔۔ اور اسی آل از ویل دیٹ اینڈز ویل پہ بلاگ کا اختتام ۔۔۔ اس دعا کے ساتھ کے منیبا گل آپ اسی طرح ترقی کرتی رہیں ۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔

 

ویسے میری پرفارمنس کیسی ہے؟

Thursday, 4 April 2013

آپ کریں تو فیشن ۔۔ ہم کریں تو پیشہ

وہ کہتے ہیں نہ کہ ۔۔ آپ کریں تو فیشن ۔۔ ہم کریں تو پیشہ ۔۔۔ خیر اب یہ جملہ تو ایک داشتہ کا ہے ۔۔۔ لیکن کیا کریں بھائی داشتاؤں کا دور ہے ۔۔۔ میرے خیال سے اس بار انتخابات میں خواجہ سراؤں کو کھڑا ہوتا دیکھ داشتاؤں کو بھی حوصلہ ہوگا، اور اگلے انتخابات میں وہ بھی کھڑی ہونے کے لیئے پر تولیں گی ۔۔ اگر ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ احتجاج بھی کریں گی ۔۔۔ وہ بھی اپنے انداز میں ۔۔۔ شاید ایسا کچھ انداز ہوگا ان کا ۔۔۔




ویسے میں کہیں اور نکل گیا ۔۔ بات میں کر رہا تھا فیشن اور پیشہ کی ۔۔۔ کے اگر کوئی ملا جہاد کی بات کرے تو دہشتگردی اس کا پیشہ ۔۔ اور اگر کوئی فیمین نامی ٹاپ لیس نسوانی تنظیم کرے ۔۔ تو فیشن ۔۔۔ واہ سائیں واہ ۔۔۔ اوپر سے احتجاج کا نام بھی کیا رکھا ہے ؟ انٹرنیشنل ٹاپ لیس جہاد ڈے ۔۔۔۔۔

مجھے ان کے ٹاپ لیس ہونے پہ اعتراض نہیں ۔۔ جمہوری دور ہے بھائی ۔ جو چاہیں کریں ۔۔ میری بلا سے ۔۔۔ میری غیرت میری آنکھوں میں ہے نہ کہ کسی کے برہنہ جسم میں ۔۔ بس مجھے مسئلہ ہے تو اس چیز سے ۔۔ کہ بھائی ۔۔۔ جو کرنا ہے کرو ۔۔ مگر کسی کے مذہبی جذبات کو یوں ننگ دھڑنگ ٹھوکریں نہ مارو ۔۔۔

اب وجہ کیا ہے اس آزادی اظہار کی ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ یمن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جو اس فیمین نامی تنظیم کی رکن ہیں، کچھ دنوں پہلے اپنی ایک برہنہ تصویر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پہ اپ لوڈ کی تھی، جس میں انھوں نے چند احتجاجی سطریں اپنے برہنہ جسم پہ گدوا کر آزادی اظہار کا استعمال کیا تھا ۔۔ جس پہ تیونس کی کچھ اسلامی تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا، اور خاتون کو گھر میں نظر بند ہونا پڑا ۔۔

اب اس نظر بندی کیخلاف، اس آزادنہ قسم کی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں موجود تیونس کے سفارت خانوں کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گی ۔۔۔ نام بھی انھوں نے بہت چن کر رکھا ہے ۔۔ یعنی لفظ جہاد کا استعمال ایسے ہی نہیں کرلیا گیا ۔۔۔

پھر لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان دہشتگرد ہیں ۔۔۔۔



Thursday, 21 March 2013

عابد علی، اواب علوی اور ٹاڈ


میں اکثر اپنی تقاریر میں یہ مصرعہ ضرور پڑھتا ہوں

ہم کو بخشو یہ سیاست نہیں ہوگی ہم سے

لیکن آج چند لوگوں سے مل کر یہ جانا، کہ سیاست ، اتنی بری بھی نہیں ۔۔۔ شکریہ 
عابد علی امنگ، شکریہ اواب علوی



ایک سیمینار میں مجھے مدعو کیا گیا، بطور ایک میڈیا پرسن اور میرے ہمراہ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے جناب عابد علی امنگ (سابق ممبر قومی اسمبلی) اور پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اواب علوی پینل میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ دیرینہ دوست اور زبردست ٹرینر عندیل علی بھی پینل میں تھے۔ جب میں کمرے میں داخل ہوا جہاں شرکا اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب یہ سیمینار شروع ہو کر ختم ہو، تو میرے ذہن میں یہ ہی تھا کہ دونوں پارٹی ورکرز کے درمیان وہی روایتی تکرار دیکھنے کو ملے گی ۔۔۔ وہ ہی تو کون میں کون کی جنگ، تم برے، نہیں تم برے کا راگ ۔۔۔ اور جو شام سات سے رات بارہ بجے تک پردہ سیمیں پر ہوتا رہتا ہے ۔۔۔۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برخلاف ۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ ایک سرپرائز مہمان نے آکر تو جیسے ہم پاکستانیوں کی حب الوطنی پہ کئی سوالات اٹھا دیئے۔ اس لیئے عابد بھائی اور اواب پر بات کرنے سے پہلے میں 
امریکی ٹاڈ شیئا کے بارے میں آپ کو بتانا چاہوں گا ۔۔۔



میں یہاں اپنی مرضی سے آیا ہوں، اور اپنی مرضی سے رہ رہا ہوں، نہ ہی مجھے کسی سیکیورٹی کی ضرورت پڑی اور نہ ہی مجھے کسی سے کوئی ڈر ہے۔ میں آیا تو تھا ذہن میں چھ ماہ کا سوچ کہ، مگر سات سال سے پاکستان میں ہوں ۔۔۔ یہ کہنا تھا امریکی ٹاڈ شیئا کا ۔۔۔۔ اور یقین مانیں جب تک ٹاڈ کہتا رہا، ہم شرماتے رہے ۔۔۔

ٹاڈ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹے کے ساتھ اپنے گھر میں بیٹھے پیزا کھا رہے تھے، کہ اچانک سامنے لگی ٹی وی پہ بریکنگ نیوز آئی، کہ پاکستان میں زلزلہ آگیا ہے ۔۔۔ ٹاڈ نے اسی وقت پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا ۔۔۔

میں نے فٹافٹ پاکستان ایمبیسی فون کیا، اور اپنی خدمات پیش کیں ۔۔ پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کی ایک ٹیم پاکستان جارہی تھی، میں ان کے ہمراہ پاکستان آگیا ۔۔ سات مہینے کا سوچ کے آیا تھا ۔۔ آج مجھے پاکستان کی خدمت کرتے ساڑھے سات سال ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ میں یہاں اپنی مرضی سے آیا ہوں، اور اپنی مرضی سے رہ رہا ہوں، نہ ہی مجھے کسی سیکیورٹی کی ضرورت پڑی اور نہ ہی مجھے کسی سے کوئی ڈر ہے۔ میں آیا تو تھا ذہن میں چھ ماہ کا سوچ کہ، مگر سات سال سے پاکستان میں ہوں ۔۔۔۔



ٹاڈ کی اتنی مثبت باتیں سن کر، ہم زمین میں گڑتے ہی رہے ۔۔۔ کہاں ایک شخص اتنی دور سے آکر اس ملک کی خدمت کررہا ہے، اور ہم ۔۔۔۔ چھوڑیں اپنا کیا ذکر کرنا ۔۔۔

جاتے جاتے ٹاڈ نے ہالو گٹار پہ، دل دل پاکستان گایا ۔۔ اور ہال میں موجود ہر فرد، 
واقعی جھومتا رہا ۔۔۔۔



لیکن اس سیمینار میں صرف ٹاڈشیئا نے ہی مجھے متاثر نہیں کیا ۔۔۔ اب میں آتا ہوں ان دو سیاسی شخصیات کی جانب، جن سے مل کر سیاست اچھی لگنے لگی ۔۔۔
میں اواب کو صرف ٹوئیٹر کی حد تک جانتا تھا، اس سے زیادہ نہیں ۔۔۔ اپنے خطاب میں اواب نے بتایا کہ ۔۔۔ اب جو بھی بتایا اس کو چھوڑیں ۔۔۔ جو اواب کے بارے میں مجھے دوسروں نے بتایا وہ کافی متاثر کن تھا ۔۔۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اواب ، ڈاکٹر عارف علوی کے صاحبزادہ ہیں ۔۔ اچھا جب مجھے یہ پتہ لگا تو میں نے دل میں سوچا لو بھائی یہاں بھی موروثی سیاست ۔۔ لیکن اگلے ہی لمحہ یہ پتہ لگا کہ اواب کا فی الحال پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں، تو اچھا لگا، اچھا نہیں بہت بہت اچھا لگا ۔۔۔۔ پھر اواب کی یہ بات بھی بہت اچھی لگی کہ امریکہ سے پڑھائی مکمل کرکے پاکستان آنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ کچھ تو برین ڈرین میں کمی آئی ہوگی ۔۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب ہر کوئی بوریا بستر باندھے یہاں سے نکل لے بھیا کی رٹ لگائے پھر رہا ہے ۔۔۔ اواب کا دندان ساز بن کر پاکستان آنا ۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔ ویسے ڈینٹسٹ کو اردو میں دندان ساز کہنا، عجیب سا لگتا ہے  ۔۔۔۔ 
J

اب ظاہر سی بات ہے کہ اواب نے بھی انتخابات اور ووٹنگ کی بات کی ۔۔ لیکن پڑھے لکھے اور چوڑے چماڑوں میں یہ ہی فرق ہوتا ہے، کوئی اور ہوتا تو شاید ووٹ ووٹ اور صرف ووٹ کی بات کرتا، لیکن اواب نے ایک بہت ضروری بات کی ۔۔۔ جہاں بھی دھاندلی نظر آئے، آپ لوگوں کے پاس بہت بڑا ہتھیار ۔۔ آپ کے موبائل فونز ہیں ۔۔۔ ریکارڈ کریں ۔۔۔ اپ لوڈ کریں ۔۔۔ اپنے نام کے ساتھ نہ کریں ۔۔۔ کل کو لوگ آپ کے پیچھے نہ پڑ جائیں ۔۔ ہاں لیکن اس چیز کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، کہ ووٹنگ والے دن، گھر نہ بیٹھیں ۔۔۔ نکلیں اور ووٹ دیں، کیوں ووٹ نہیں دیں گے، تو پھر آنے والی حکومت آپ کے ووٹ سے تو نہیں آئے گی، اور پھر ٹوٹی سڑکوں پھوٹی بتیوں پر آپ کا دھرنا ۔۔۔ بنتا نہیں باس



اور پھر باری آتی ہے ۔۔۔ عابد علی امنگ کی ۔۔۔۔۔



جب وہ آئے تو ساڑھے آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔ گھڑی کی جانب دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں ۔۔۔ صاحب فرماتے ہیں ۔۔ کہ ساڑھے آٹھ، اور بھوک کا عالم ۔۔ تو میرے بھائی ۔۔۔ ہر آدمی کیساتھ لگا ہے ایک عدد پیٹ ۔۔۔ تو ووٹ فار پیٹ

اور یہ جملہ سن کر جیسے تمام سوتے ہوئے شرکا میں نئی جان سی پڑ گئی ۔۔۔۔ میں جتنی دیر تک عابد کو سنتا رہا، اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ اب کوئی سیاسی تیر کمان سے نکلے گا اور پی ٹی آئی کے خیمہ کی جناب چلایا جائے گا ۔۔ لیکن ایسا ہوا ہرگز نہیں

میں پہلے سے عابد بھائی کو جانتا ہوں، اور یہ بھی کہ جب وہ ممبر قومی اسمبلی تھے، اور اب جب نہیں ہیں، تب بھی استاد تھے، اب بھی استاد ہیں ۔۔۔۔۔ تب بھی دو کمروں کے کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اور اب بھی ۔۔۔۔



تقریب کا اختتام ہوا، دونوں صاحبان یعنی اواب اور عابد بھائی نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا ۔۔۔ اور یہ اس موقع پہ میں نے کہا ۔۔۔ بھائی میڈیا اس سیاسی مفاہمت کا آنکھوں دیکھا حال ضرور لکھے گا

عابد بھائی ہوں، اواب ہوں یا ٹاڈ شیئا ۔۔۔ معاشرے میں اچھے لوگوں کی ابھی کمی نہیں ۔۔۔ ایک جانب ایک امریکی جو اپنا وطن چھوڑ کر ہم ان لوگوں کی مدد کر رہا ہے جو دن رات اپنے وطن کو گالیاں دیتے رہتے ہیں، اور ایک جانب دو ایسی سیاسی شخصیات جن پہ آنے والے وقت میں بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔۔ 
ذمہ داری یہ کہ، اپنی اچھائی کو، برائی کے ہاتھوں مرنے نہ دیں ۔۔۔۔

کیا ہی بات ہو اگر عابد بھائی جیسا تجربہ اس ملک کو مل جائے ۔۔۔ اواب جیسی لگن اور محنت اس ملک کا مقدر بن جائے، اور ٹاڈ شئیا جیسے مخلص دوستوں کا ساتھ رہے ۔۔ جو بغیر کسی ایجنڈے کے اس مٹی کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔۔ خواب لگتا ہے ناں؟ غریب پرور قیادت، محب وطن جوشیلا خون اور مخلص دوستی ۔۔۔۔ 

جاتے جاتے ان تینوں دوستوں کی آخری بات ۔۔۔

ٹاڈ کہتا ہے ۔۔۔۔ پاکستان میں اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ۔۔۔

اواب نے بتایا، میرے والد نے دو تین سال پہلے کہا کہ گھوڑے کی ریس کو باہر بیٹھ کہ دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں

اور عابد بھائی نے کہا

ووٹ ڈالیں ۔۔ اس سے پہلے کہ آپ کا ڈالا جائے